حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سربراہ ثقافت و اسلامی افکار تحقیقی ادارہ کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین علی اکبر رشاد نے ’’سوشل میڈیا کی تنظیم کاری‘‘کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مختلف جدید مسائل کے جائزے میں فقہی قواعد کی صلاحیت کی طرف اشارہ کیا اور کہا: بہت سے فقہی قواعد کو نئے مسائل کے فقہی استنباط اور ان کے احکام کی تدوین کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور سوشل میڈیا بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں ہے۔
انہوں نے ’’حفظِ نظامِ اسلامی‘‘ کے فقہی قاعدے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: امام خمینی (رح) نے فرمایا ہے کہ حفظِ نظامِ اسلامی واجبات میں سے ہے اور احکام کے درمیان اسے خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین رشاد نے مزید کہا: اگر ہم واقعی سوشل میڈیا کو بے لگام اور غیر منظم تصور کریں اور یہ فضا اسلامی نظام کے لیے خطرہ بن جائے تو ہمیں اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ سوشل میڈیا کو بے لگام چھوڑ دینا اور اس کا انتظام نہ کرنا حفظِ نظام، جو ایک واجب ہے، کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا: سائبر اسپیس اور سوشل میڈیا کو منظم کرنا ضروری ہے اور اس کے لیے رہنمائی، مدیریت اور حکمرانی ناگزیر ہے کیونکہ نظامِ اسلامی میں خلل ڈالنا حرام ہے۔
سربراہ ثقافت و اسلامی افکار تحقیقی ادارہ نے مزید کہا: اگر کوئی شخص سوشل میڈیا کے ذریعے اسلامی معاشرہ میں نفوذ کرے اور ہمارے نوجوانوں کو متاثر کرے تو ہمیں اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ ہم ایک مختلف نوعیت کے تسلط اور نفوذ کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا کے ثقافتی اور شناختی سرحدوں پر اثرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اہم مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ افراد اور معاشروں کی ثقافتی اور شناختی سرحدیں متاثر نہ ہوں اور افراد اپنی شناخت کو محفوظ رکھنے میں کسی مشکل سے دوچار نہ ہوں۔









آپ کا تبصرہ